لام آباد کی عدالت نے 153 پی ٹی آئی کارکنان کو ضمانت دے دی

 



اسلام آباد کی عدالت نے 153 پی ٹی آئی کارکنان کو ضمانت دے دی
 

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 153 کارکنان کو ضمانت دے دی۔ یہ کارکنان 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران درج مقدمات میں ملوث تھے۔

عدالتی فیصلہ

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا:
"ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ ملزمان کی شمولیت، بادی النظر میں مزید تحقیقات کا موضوع ہے، جس کی وضاحت صرف پراسیکیوشن کے شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ممکن ہوگی۔"

پراسیکیوشن کی ناکامی

عدالت نے نوٹ کیا کہ پراسیکیوشن عدالت کو قائل کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کریں گے۔

ملزمان کو فی کس 5,000 روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دی گئی۔ تاہم، عدالت نے ایف آئی آرز میں نامزد 24 افراد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

26 نومبر کا احتجاج

26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے "آخری کال" دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ احتجاج کا مقصد پارٹی کے "چوری شدہ مینڈیٹ" کی بحالی، 26ویں ترمیم کے خاتمے، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی تھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق، احتجاج کے دوران 13 کارکن شہید جبکہ 1,000 سے زائد گرفتار ہوئے۔ تاہم، حکومت نے لائیو گولیاں استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران 4 قانون نافذ کرنے والے اہلکار، جن میں 3 رینجرز اور ایک پولیس اہلکار شامل تھے، شہید ہوئے۔

سیاسی قیدیوں کی رہائی اور دیگر مطالبات

پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان مطالبات میں شامل ہیں:

  • تمام "سیاسی قیدیوں" کی رہائی۔
  • 9 مئی 2023 کے واقعات اور 26 نومبر کے کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل۔

احتجاجی تحریک اور قانونی کارروائیاں

حکومت نے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کا یہ فیصلہ پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے ایک بڑی قانونی پیش رفت ہے۔


کلیدی الفاظ:

  • پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت
  • 26 نومبر احتجاج
  • انسداد دہشت گردی عدالت
  • سیاسی قیدیوں کی رہائی
  • عمران خان احتجاج
  • سول نافرمانی تحریک
  • پی ٹی آئی مقدمات
  • اسلام آباد احتجاج


Comments

Popular posts from this blog

محمد عامر کی ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی امیدیں اور خدشات

سوڈان میں اخوان المسلمون کی پابندی: ریاستی استحکام کے لیے ایک تاریخی فیصلہ

ٹرمپ کی کامیابی کا راز: خلیجی اتحادیوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟