یورپی یونین کا پاکستانیوں کے لیے ویزا اور قونصلر اپائنٹمنٹس کے حوالے سے 'اسکام الرٹ
یورپی یونین کا پاکستانیوں کے لیے ویزا اور قونصلر اپائنٹمنٹس کے حوالے سے 'اسکام الرٹ'
شہر
ی صرف رکن ممالک کے سفارتخانوں کی ویب سائٹس سے مستند معلومات پر بھروسہ کریں، یورپی یونین دفتر کی ہدایت
تحریر: ویب ڈیسک | 27 دسمبر 2024
یورپی یونین (EU) کے دفتر نے پاکستانیوں کو "مجرمانہ تنظیموں" کی جانب سے ویزا اور قونصلر اپائنٹمنٹس کے حوالے سے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے ایک "اسکام الرٹ" جاری کیا ہے۔
یورپی یونین کی پاکستان میں موجود نمائندہ دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (پہلے ٹوئٹر) پر پیغام دیتے ہوئے بتایا کہ "اسلام آباد میں موجود سفارتی مشنز نے گوگل میپس پر رکن ممالک کے سفارتخانوں کے جعلی اندراجات نوٹ کیے ہیں، جن میں ویزا اور قونصلر اپائنٹمنٹس سے متعلق گمراہ کن معلومات اور جعلی ٹیلی فون نمبرز شامل ہیں۔"
دفتر نے خبردار کیا کہ یہ ایک "سنگین اسکام" ہے جو مجرمانہ تنظیموں کی طرف سے چلایا جا رہا ہے اور شہریوں کو صرف مستند معلومات اور رکن ممالک کے سفارتخانوں کی ویب سائٹس پر موجود رابطہ نمبرز پر انحصار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یورپی یونین کے دفتر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "EU کے رکن ممالک کے سفارتخانوں کی ویب سائٹس پر فراہم کردہ معلومات اور رابطہ نمبر ہی ویزا اور قونصلر مسائل کے لیے مستند ہیں۔ گوگل میپس یا دیگر سفارتخانوں کی ڈائریکٹریز میں موجود اندراجات قابل اعتماد نہیں ہیں۔"
شینگن ویزا کی معلومات
یورپی یونین کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، شینگن زون یورپی یونین کے 400 ملین سے زائد شہریوں کے لیے بغیر بارڈر نقل و حرکت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سہولت غیر یورپی شہریوں، کاروباری افراد، سیاحوں، اور دیگر افراد کو بھی دستیاب ہے جو یورپی یونین کے علاقے میں قانونی طور پر موجود ہیں۔
دفتر نے وضاحت کی کہ پاکستان میں موجود یورپی یونین کا نمائندہ دفتر نہ تو پاسپورٹ جاری کرتا ہے اور نہ ہی ویزا۔ یہ ذمہ داری ہر رکن ملک کے سفارتخانے یا قونصل خانے کی ہے۔
پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا کی ضروریات
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی شہریوں کو شینگن زون میں سفر کے لیے شینگن ویزا اور شینگن زون کے باہر EU رکن ممالک میں سفر کے لیے نیشنل ویزا کی ضرورت ہوتی ہے۔
یورپی یونین نے یہ بھی واضح کیا کہ شینگن زون میں موجودہ وقت میں زیادہ تر EU رکن ممالک شامل ہیں، سوائے بلغاریہ، قبرص، آئرلینڈ، اور رومانیہ کے۔ تاہم، بلغاریہ اور رومانیہ شینگن زون میں شامل ہونے کے عمل میں ہیں۔ غیر EU ممالک میں آئس لینڈ، ناروے، اور سوئٹزرلینڈ شینگن زون میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ لیختین شٹائن جلد ہی شامل ہو گا۔
شہریوں کے لیے ہدایات
شینگن ویزا رکھنے والے مسافر ایک ملک میں داخل ہو کر پورے شینگن زون میں آزادانہ سفر کر سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے دفتر نے پاکستانی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ یورپ میں اپنی مطلوبہ منزل کے ویزا کے حصول کے لیے متعلقہ ملک کے سفارتخانے یا قونصل خانے سے رابطہ کریں۔
یہ مضمون معلوماتی اور مستند انداز میں یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کو بیان کرتا ہے۔

Comments
Post a Comment